بس حادثے کی آنکھوں دیکھی روداد

تحریر: نعمان ہاشم  (بہاول نگر)

یہ کچھ عرصہ قبل کا واقعہ ہے۔ ہم مری جا رہے تھے۔ ہماری بس تیزی سے آگے بڑھ رہی تھی۔ تمام مسافر بہت خوش  اور سفر  سے لطف اندوز ہو   رہے تھے کہ سامنے سے ایک ٹرک تیز رفتاری سے آتا ہوا دکھائی دیا ۔ اچانک ٹرک کا اگلا ٹائر نکل جانے سے وہ ڈرائیور کے قابو سے باہر ہو گیا اور ہماری بس کے ساتھ ٹکرا کر بہت بڑے حادثے کا سبب بن گیا۔ بس سے ٹکرانے کے بعد ٹرک سڑک پرالٹ گیا جبکہ بس سڑک سے نیچے گڑھے میں جا گری اور میں کھڑکی سے باہر جا گرا۔ جائے حادثہ پر ہر طرف چیخ و پکار کا عالم تھا، مسافر خون میں لت پت پڑے ہوئے تھے۔ مجھے بھی بہت زخم آئے لیکن کوئی سنگین چوٹ نہیں لگی۔ بس ڈرائیور اور تین مسافر موقع پر ہی دم توڑ گئے۔ بس اور ٹرک کا شدید نقصان ہوا۔ واقعہ کے بعد  جلد ہی امدادی ٹیمیں، پولیس اور طبی عملے کے اہل کار جائے حادثہ پر آن پہنچے۔ زخمیوں کو ایمبولینس کے ذریعے  فوری ہسپتال منتقل کیا گیا۔ جن مسافروں کو معمولی چوٹیں آئیں ان کوابتدائی طبی امداد کے بعد ہسپتال سے  فارغ کر  دیا گیا۔ شدید زخمی مسافروں کو علاج کے لئے ہسپتال میں داخل کر لیا  گیا۔ پولیس نے جائے  حادثہ کا جائزہ لینے کے بعد عینی شاہدین سے بیانات لینے شروع کر دیے۔ حادثے کی وجہ سے میں بڑا غم زدہ تھا اور گھر لوٹ گیا۔ اس واقعہ کو آج بھی یاد کر کے میرے رونگھٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔

شیئر کریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
673
1