تحریر: زویا کنول (حاصل پور)​

ایک بیوہ رئیس زادی کی دو کنیزیں تھیں جن سے وہ گھر کا کام لیتی تھی۔ یہ دونوں کنیزیں سست، کاہل اور کام چور تھیں۔ انہیں کام کرنے سے سخت نفرت تھی۔ خاص طور پر صبح سویرے اٹھنا تو انہیں ایک آنکھ نہ بھاتا تھا۔ ان کی مالکہ انہیں علی الصبح مرغ کی بانگ پر جگا دیتی کہ اٹھو، صبح ہو گئی ہے۔ گھر کا کام کرو۔ ادھر مرغ کی بانگ کا کیا، وہ تو آدھی رات کو ہی ککڑوکوں کرنے لگتا۔ دونوں کنیزوں نے تنگ آ کر مرغ کو جان سے مار دینے کا فیصلہ کیا کہ نہ یہ ہو گا، نہ ہی بانگ ملے گی اور وہ دن چڑھے تک مزے کی نیند سوئیں گی۔ ایک دن دونوں کنیزوں نے مالکہ کی غیر موجودگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مرغ کو پکڑ کر مار ڈالا اور ایک جگہ دبا دیا۔ اب ہوا یہ کہ مرغ کے نہ ہونے سے بیوہ کو وقت کا اندازہ ہی نہ رہا۔ وہ ہر وقت کنیزوں کی جان کھانے لگی اور انہیں نصف شب کو جگا نے لگی۔ اس حکایت سعدی کا حاصل کلام یہ ہے کہ غیر ضروری چالاکی اور ہوشیاری کا نتیجہ ہمیشہ تکلیف دہ ثابت ہوتا ہے۔

شیئر کریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
1044
12