تحریر:  اعجاز حسین (دنیا پور)

چھوٹو ایک ہوٹل  پر گاہکوں کو چائے پہنچاتا تھا۔  ایک دن قریبی سکول کے استاد ظہور احمد وہاں چائے  پینے  آئے  تو  ایک معصوم بچے کو اس طرح کام کرتے دیکھ کر انہیں  بہت ترس آیا۔ انھوں  نے سوچا کہ وہ اس چھوٹے بچے سے بات کر کے  پوچھیں کہ وہ کون سی مجبوری ہے جو وہ یہاں کام کرتا ہے۔ وہ ہوٹل کے باہر بیٹھ کر چھوٹو کا انتظار کرنے لگے۔

چھوٹو باہر آیا تو ظہور احمد نے چھوٹو کو آواز دی اور اپنے پاس بلا کر بڑے پیار سے پوچھا : بیٹا! تمہارا کیا نام ہے؟ اور تم کہاں رہتے ہو؟

وہ بولا: میرا نام شہریار ہے۔ میں یہاں قریب ہی رہتا ہوں۔ اس نے اپنے علاقے کی طرف اشارہ کیا۔

بیٹا! تم سکول نہیں جاتے ؟  ظہور  احمد  کا یہ سوال سن کر شہریار اداس سا ہو گیا اور بولا: میں بھی چاہتا ہوں کہ سکول میں پڑھوں  لیکن میرے ابو نے مجھے یہاں کام پر لگا دیا ہے۔

اگر میں تمہارے ابو سے بات کروں تو!  ظہور احمد نے  پوچھا؟

 نہیں نہیں۔ آپ ان سے بات نہ کریں۔ وہ بہت غصے والے ہیں۔ بچے نے پریشان ہو  کر  کہا۔  لیکن ظہور احمد  شہریارکو  اس کے  گھر  آنے کا کہہ کر چلا  آیا۔

اگلی صبح ظہور  احمد تیار ہو کر سکول  جانے سے  پہلے شہریار کے گھر پہنچے اور اس کے والد  سے کہا: میں آپ سے شہریار کے بارے میں کچھ بات کرنا چاہتا ہوں۔

اس کے والد نے روکھے انداز میں پوچھا: میرے بیٹے کے بارے میں کیا بات کرنا چاہتے ہیں؟

آپ اپنے بیٹے سے کام کیوں کرواتے ہیں؟ ظہور احمد نے کہا۔ 

شہر  یار  کے والد نے کہا  کہ یہ میرے گھر کا معاملہ ہے، آپ اس میں دخل کیوں دے رہے ہیں۔ میرے گھر کے حالات ٹھیک نہیں ہیں،اس لئے میں نے اسے کام پر بھیجا ہے کہ وہ کچھ پیسے کما لے۔

ظہور احمد نے کہا: اپنے بچوں کو پالنا اور انہیں تعلیم دلانا آپ کا فرض ہے۔ آپ اس بچے کا بچپن اور تعلیم دونوں کا نقصان کر رہے ہیں اور اتنے چھوٹے بچے سے مزدوری کروانا قانوناً جرم ہے۔ اگر آپ اپنے بچے کے ساتھ یہی کرتے رہے تو میں آپ کی رپورٹ کر دوں گا۔ اس کے بعد آپ جانیں اور قانون۔آپ کو اس کی سزا بھی ملے گی اور جرمانہ بھی ہو گا۔

ظہور  احمد  کی بات  سن کر شہریار کے ابو ڈر گئے کہ کہیں کوئی بڑا مسئلہ نہ بن جائے۔ وہ بولے: نہیں نہیں۔۔۔ میں شہریار کو اب کام پر نہیں بھیجوں گا، بلکہ اسے سکول میں داخل کروا دوں گا۔

آپ ابھی میرے ساتھ آئیں اور شہریار کو اسکول میں داخل کروائیں۔ ظہور احمد نے کہا۔

شہریار کے والد بولے: جی ٹھیک ہے، جیسے آپ کہیں۔ اور وہ ان کے ساتھ چل پڑے۔ شہریار بہت خوش تھا کہ اب وہ بھی تعلیم حاصل کر کے اچھا شہری بن جائے گا۔

شیئر کریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
1042
13