بھوک چہروں پہ لیے چاند سے پیارے بچے

تحریر: محمد بلال (میاں چنوں)

آج بھرے بازار میں جب میں نے ایک بچے کو دس روپےکا سوال کرتے دیکھا تو میری آنکھیں بھر آئیں۔ مجھ پر جیسے سکتہ طاری ہو گیا۔ اس معصوم کو دیکھ کر دل خون کے آنسو رویا۔ وہ بچے جن کی عمر پڑھنے لکھنے اور کھیلنے کودنے کی ہوتی ہے, وہ کبھی فقیروں کے بھیس میں دکھائی دیتے ہیں یا پھر گلیوں میں غبارے بیچتے پھرتے ہیں. یہ منظر بہت دردناک ہوتا ہے۔ جب میں ان کے ہاتھوں میں کتابوں کی جگہ کام کے اوزار دیکھتا ہوں تو دل بہت اداس ہوتا ہے۔ یہ پھول یہ ننھی کلیاں جن کو ابھی کھلنا ہے مگر کبھی مفلسی، کبھی ماں باپ کا سفاکانہ رویہ، کبھی اساتذہ کی بےجا سختی یا لا پرواہی اور کبھی زمانے کے ستم سہتے ہوے یہ پھول کھلنے سے پہلے ہی مرجھا جاتے ہیں ۔ مشہور شاعر بیدل حیدری نے ان بچوں کی عکاسی کچھ یوں کی ہے۔

بھوک چہروں پہ لیے چاند سے پیارے بچے

بیچتے پھرتے ہیں گلیوں میں غبارے بچے

ہمیں یہ سوچنا ہے کہ ان سب کے ذمہ دار کہیں نہ کہیں ہم تو نہیں ہیں؟یہ بچے معمار قوم ہیں۔ ہمارے ملک کا مستقبل ہیں۔ اس قوم کا ہر بچہ ہمارا اپنا بچہ ہے۔ ہمیں ان چاند سے بچوں کی مدد کرتے ہوئے ان کا مستقبل روشن کرنا ہے۔ ہمیں ان بچوں معاشرے کا مفید شہری بنانا ہے۔

شیئر کریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
760
5